18 اکتوبر 2010 - 20:30

ترجمان دفتر خارجہ عبدالباسط نے کہا کہ برطانوی وزیراعظم کی طرف سے بنگلور میں دیئے گئے پاکستان مخالف بیان کا جائزہ لے رہے ہیں،دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستانی عوام اور فورسز کی قربانیوں کو جھٹلایا نہیں جاسکتا.

دفتر خارجہ نے برطانوی وزیراعظم کے پاکستان مخالف بیان پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو برطانوی وزیراعظم کے بیان پر تحفظات ہیں۔دفتر خارجہ میں ہفتہ وار بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے ترجمان دفتر خارجہ عبدالباسط نے کہا کہ برطانوی وزیراعظم کی طرف سے بنگلور میں دیئے گئے پاکستان مخالف بیان کا جائزہ لے رہے ہیں، دہشت گردی کیخلاف جنگ میں پاکستانی عوام اور فورسز کی قربانیوں کو جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ انہوں نے افغان صدر کرزئی کی طرف سے پاکستان میں نیٹو افواج کی کارروائی سے متعلق دیئے گئے بیان پر بھی سخت تشویش اور حیرت کا اظہار کیا اور بتایا کہ کابل میں پاکستانی سفیر کو کہا گیا ہے کہ وہ افغان صدر کی طرف سے دیئے گئے بیان کی وضاحت حاصل کریں۔ ایک سوال پر انہوں نے بتایا کہ صدر زداری یکم اگست سے فرانس کا سرکاری دورہ کرینگے۔نیٹو ممالک طالبان کو پاکستان میں نشانہ کیوں نہیں بنا رہے،کرزئی افغان صدر حامد کرزئی نے نیٹو سے سوال کیا ہے کہ پاکستان میں طالبان کی محفوظ پناہ گاہوں کو نشانہ کیوں نہیں بنایا جا رہا۔کابل میں پریس کانفرنس کے دوران صدر حامد کرزئی نے کہا کہ دہشتگردی کے خلاف جنگ صرف افغان گھروں اور گاؤں تک محدود نہیں ہونی چاہیئے۔ افغانستان سے باہر بھی دہشتگردوں کی محفوظ پناہ گاہوں کو نشانہ بنایا جائے۔انہوں نے سوال کیا کہ اتحادیوں کے پاس پاکستانی طالبان کو نشانہ بنانے کی صلاحیت ہے تو ان کیخلاف کارروائی کیوں نہیں کرتے۔ آج نیوز کے مطابق افغان صدر حامد کرزئی نے نیٹو ممالک سے پاکستان میں عسکریت پسندوں کے مبینہ ٹھکانوں پر حملہ کرنے کا مطالبہ کر دیا۔کابل میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر کرزئی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ افغانستان کے علاقوں میں نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ عسکریت پسندوں کے ٹھکانے اور تربیت گاہیں سرحد پار ہیں۔صدر کرزئی نے اتحادی افواج کے ان ٹھکانوں کو نشانہ نہ بنانے پر حیرانی کا اظہار کیا۔صدر کرزئی نے وکی لیکس کی افشاء کی گئیں خفیہ دستاویزات کو افغان باشندوں کی جان کیلئے خطرہ قرار دیا۔

.........

/110